ایڈز سے متاثرہ مائیں دوہری مشکل کا شکار ہیں
ایڈز سے متاثرہ مائیں دوہری مشکل کا شکار ہیں
ویسٹ انڈیز میں رہنے والی ایک خاتون، سنتھیا * کو اپنے نوزائیدہ بچے کو چھاتی کا دودھ یا پھر بوتل کا دودھ پلانے کے سلسلے میں انتخاب کا سامنا تھا۔ فیصلہ شاید معمولی دکھائی دے۔ بہرصورت، عشروں سے طبّی ماہرین ماں کے دودھ کو بچوں کیلئے ”بہترین غذا“ کے طور پر بتاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، غریب طبقے میں بوتل سے دودھ پینے والے بچوں میں چھاتی سے دودھ پینے والے بچوں کی نسبت اسہالی بیماری کی وجہ سے مرنے کا امکان تقریباً ۱۵ فیصد زیادہ ہے۔ درحقیقت، اقوامِ متحدہ کا بچوں کی امداد کا ادارہ (یونیسیف) بیان کرتا ہے کہ چھاتی کے دودھ کے متبادلات سے وابستہ خطرات کے نتیجے میں ہر روز تقریباً ۰۰۰،۴ بچے مرتے ہیں۔
تاہم، سنتھیا کے معاملے میں چھاتی سے دودھ پلانے کے فیصلے میں ایک بالکل مختلف خطرہ موجود تھا۔ وہ اپنے شوہر سے ایڈز کا باعث بننے والے ہیومن امیونوڈیفیشینسی وائرس (ایچآئیوی) سےمتاثر ہو گئی تھی۔ تاہم، بچے کی پیدائش کے بعد، سنتھیا کو معلوم ہوا کہ ایچآئیوی سے متاثرہ ماں کے بچے میں چھاتی کا دودھ پینے کی وجہ سے متاثر ہونے کے امکان کی شرح ۷ میں سے ۱ ہے۔ * پس، اُسے ایک تکلیفدہ انتخاب درپیش تھا: اپنے بچے کو چھاتی سے دودھ پلانے کے خطرات کا سامنا کرنے دے یا اُسے بوتل سے دودھ پلا کر اُسکی جان جوکھوں میں ڈال دے۔
دُنیا کے اُن خطوں میں جہاں ایڈز کی وبا بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے، ۱۰ حاملہ عورتوں میں سے ۲ یا ۳ میں ایچآئیوی کے جراثیم ہوتے ہیں۔ ایک مُلک میں جن عورتوں کا ٹیسٹ کِیا گیا اُن میں سے نصف اس مرض میں مبتلا تھیں۔ یواین ریڈیو رپورٹ پیش کرتا ہے کہ ”ان خوفناک اعدادوشمار نے سائنسدانوں کو بڑی تیزی سے علاج دریافت کرنے کی ترغیب دی ہے۔“ اس خطرے سے نپٹنے کیلئے یواین کی چھ تنظیموں نے اپنے تجربے، کاوشوں اور وسائل کو بروئےکار لاتے ہوئے، ایڈز/ایچآئیوی کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے ایک مشترکہ پروگرام کو تشکیل دیا ہے جو UNAIDS کے طور پر مشہور ہے۔ * تاہم UNAIDS اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ایڈز کے سلسلے میں دوہری مشکل کا حل اتنا آسان نہیں ہے۔
آسان حل کی راہ میں پیچیدہ رُکاوٹیں
چھاتی سے دودھ پلانے اور ایچآئیوی کی ماں سے بچے میں منتقلی کی ماہر ایڈتھ وائٹ کے مطابق صنعتی ممالک میں ہیلتھ ورکرز ایچآئیوی سے متاثرہ عورتوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اپنے بچوں کو دودھ نہ پلائیں کیونکہ اس سے
بچے کو مرض لگنے کا خطرہ دوگُنا بڑھ جاتا ہے۔ چھاتی کے دودھ کی بجائے بچوں کو کوئی اَور دودھ پلانا ایک منطقی نعمالبدل دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ترقیپذیر ممالک میں، جہاں مثالی نظریات بھی جلد ہی تلخ حقائق کا روپ دھار لیتے ہیں، اس آسان حل پر عمل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ان رُکاوٹوں میں سے ایک معاشرتی رُکاوٹ ہے۔ ایسے ممالک میں، جہاں چھاتی سے دودھ پلانے کا رواج ہے، اپنے بچوں کو بوتل سے دودھ پلانے والی عورتیں شاید اس حقیقت کو سامنے لا رہی ہوں کہ وہ ایچآئیوی سے متاثر ہیں۔ ایک عورت شاید اس بات سے خوفزدہ ہو کہ جب سب کو اُسکے مرض کا پتا چل جائیگا تو اُس پر الزام لگایا جائیگا، چھوڑ دیا جائیگا یا اُسے مارا جائیگا۔ ایسی صورتحال میں، بعض عورتیں محسوس کرتی ہیں کہ اپنے ایچآئیوی سے متاثر ہونے کو چھپانے کی خاطر اُنکے پاس اپنے بچے کو چھاتی سے دودھ پلانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
دیگر رُکاوٹیں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، ۲۰سالہ مارگریٹ کو لے لیں۔ یوگینڈا کی کمازکم ۹۵ فیصد دیہاتی عورتوں کی طرح، اُس کا بھی کبھی ایچآئیوی ٹیسٹ نہیں ہوا۔ تاہم مارگریٹ کے پاس فکرمند ہونے کی معقول وجہ ہے۔ اُس کی پہلی بچی مر گئی اور دوسری بچی بھی کمزور اور مستقل بیمار رہتی ہے۔ اس حقیقت سے قطعنظر کہ شاید وہ ایچآئیوی سے متاثر ہو، مارگریٹ اپنے تیسرے بچے کو دن میں دس مرتبہ اپنا دودھ پلاتی ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ ”وہ کبھی بھی اپنے بچے کو فارمولے کا دودھ نہیں پلا سکے گی۔“ کیوں نہیں؟ مارگریٹ کا کہنا ہے کہ ایک بچے کو دودھ پلانے کی قیمت اُسکے گاؤں میں ایک خاندان کی کُل سالانہ آمدنی سے ڈیڑھ گُنا زیادہ ہے۔ اگر فارمولے کا دودھ مُفت بھی دستیاب ہوتا تو بھی فارمولے سے بچے کیلئے محفوظ دودھ بنانے کیلئے صاف پانی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ *
اگر ایچآئیوی سے متاثرہ ماؤں کو مناسب صفائیستھرائی، معقول مقدار میں چھاتی کے دودھ کے متبادل صاف پانی فراہم کِیا جائے تو ان میں سے بعض رُکاوٹوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کیا یہ سب کچھ مہنگا ہے؟ شاید۔ تاہم، حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسی سہولیات فراہم کرنا فنڈز حاصل کرنے کی نسبت ترجیحات قائم کرنے کا معاملہ ہے۔ درحقیقت، یواین رپورٹ بیان کرتی ہے کہ دُنیا کے غریبترین ترقیپذیر ممالک صحت اور تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم سے دو گُنا سے بھی زیادہ فوج پر خرچ کرتے ہیں۔
ایڈز کے تریاق کی بابت کیا ہے؟
یواین سائنسدانوں نے بیان کِیا ہے کہ ایک سادہ اور نسبتاً سستی دوا جو AZT کہلاتی ہے، بڑی حد تک ایچآئیوی کے ماں سے بچے میں منتقل ہونے کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ UNAIDS کی مدد سے اس دوا کی قیمت کو کم کر کے ۵۰ ڈالر کر دیا گیا ہے۔ مزیدبرآں، ایڈز پر تحقیق کرنے والوں نے جولائی ۱۹۹۹ میں اعلان کِیا ہے کہ ایچآئیوی سے متاثرہ ماؤں اور اُن کے نوزائیدہ بچوں کے علاج کیلئے نیویراپائن جسکی قیمت صرف ۳ ڈالر ہے، ایچآئیوی کی منتقلی کو روکنے میں AZT سے زیادہ مؤثر دکھائی دیتی ہے۔ ماہرینِطب کا کہنا ہے کہ نیویراپائن ہر سال تقریباً ۰۰۰،۰۰،۴ نوزائیدہ بچوں کو ایچآئیوی سے متاثرہ زندگی شروع کرنے سے بچا سکتی ہے۔
تاہم، بعض لوگ ایسے ادویاتی علاج پر تنقید کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ایسی ادویات صرف ماں سے بچے میں ایچآئیوی کی منتقلی کو روکنے تک محدود ہیں، اسلئے ماں انجامکار ایڈز کی وجہ سے مر جائیگی اور بچہ یتیم ہو جائیگا۔ اس کے جواب میں یواین کا کہنا ہے کہ اسکا خوفناک متبادل توپھر یہ ہوگا کہ بچے ایچآئیوی سے متاثر ہوں اور یوں یہ معصوم متاثرین سُسترو اور افسوسناک موت کا شکار ہو جائیں۔ وہ یہ بھی دلیل پیش کرتے ہیں کہ ایچآئیوی سے متاثرہ مائیں کئی سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔ سنتھیا کو ہی لے لیں جسکا شروع میں ذکر کِیا گیا ہے۔ سن ۱۹۸۵ میں اپنے بچے کی پیدائش پر اُسے معلوم ہوا کہ وہ ایچآئیوی سے متاثر ہے تاہم آٹھ سال بعد وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئی۔ پس اگرچہ اُسکا بچہ پیدائش کے وقت ایچآئیوی میں مبتلا تھا تاہم، دو سال کی عمر میں وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔
بائبل کی تسلیبخش یقیندہانی یہ ہے کہ ایک حقیقی محفوظ ماحول بہت جلد آنے والا ہے جس میں ایڈز جیسے موذی امراض مستقل طور پر ختم ہو جائینگے۔ (مکاشفہ ۲۱:۱-۴) یہوواہ خدا ایک نئی دُنیا کا وعدہ کرتا ہے جہاں کے ”باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ مَیں بیمار ہوں۔“ (یسعیاہ ۳۳:۲۴) یہوواہ کے گواہ آپکو اس دائمی حل کی بابت بتانا چاہتے ہیں۔ مزید معلومات کیلئے، براہِمہربانی اس جریدے کے ناشرین سے یا اپنے علاقے میں یہوواہ کے گواہوں سے رابطہ کریں۔
[فٹنوٹ]
^ پیراگراف 2 یہ اُسکا اصل نام نہیں ہے۔
^ پیراگراف 3 یونیسیف کے مطابق، ہر روز تقریباً ۵۰۰ سے ۷۰۰ بچے ایچآئیوی سے متاثرہ ماؤں کا دودھ پینے سے اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔
^ پیراگراف 4 اس میں چھ تنظیمیں، یونیسیف، اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام، اقوامِ متحدہ کا فنڈ برائے آبادی، اقوامِ متحدہ کا ادارۂ تعلیموسائنس اور ثقافت، ادارہ برائے عالمی صحت اور عالمی بینک شامل ہیں۔ ۱۹۹۵ UNAIDS میں قائم کِیا گیا تھا۔
^ پیراگراف 8 ایک تازہترین تحقیق بیان کرتی ہے کہ فارمولے کے دودھ اور چھاتی کے دودھ دونوں کو ملانا ایچآئیوی سے متاثر ہونے کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے جبکہ چھاتی کے دودھ میں اینٹیوائرل خصوصیات ہو سکتی ہیں جو جراثیم کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر صرف چھاتی سے دودھ پلانا ہی—اسکے خطرات سمیت—محفوظ انتخاب ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس تحقیق کے نتائج کی تصدیق ابھی باقی ہے۔
[صفحہ ۲۰ پر تصویر کا حوالہ]
WHO/E. Hooper